14 فروری 2012 - 20:30

حکومت آذربائیجان نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے عائد الزام کہ آذربائیجان میں دہشتگردگروہ خاص طور پر صیہونی حکومت کی خفیہ ایجنسی موساد سرگرم عمل ہے، پر رد عمل کا اظہار کر تے ہوئےاس غیراصولی اقدام کی توجیہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق آذربائیجان کی وزارت خارجہ کے ترجمان"المان عبداللہ یف" نے ایرانی حکام کے ان بیانات کی تردید کی ہے کہ "الہام علی اف" کی حکومت ایران کےخلاف صیہونی حکومت کی خفیہ ایجنسی کی حمایت کر رہی ہے. "عبداللہ یف" کا یہ دعوی ایسے موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب ایک صیہونی اخبار" ھا آرٹص" نے لکھا ہے کہ آذربائیجان میں موساد کا ایک جدید اڈہ موجود ہے اس اخبار کے مطابق اس وقت باکو میں موساد کے دسیوں جاسوس سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔اسی طرح لندن کے ایک اخبار" ٹائمز" نے بھی حال ہی میں آذربائیجان میں موساد کے ایک زر خرید ایجنٹ" شیمون" سے انٹرویو لیا ہے۔ شیمون کے مطابق جمہوری آذربائیجان میں موساد کے دسیوں ایجنٹ مکمل آزادی کے ساتھ دہشتگردانہ سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ شیمون کے مطابق آذربائیجان میں دوہزار گیارہ سے موساد کے جاسوسوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ایران کے ایٹمی سائنس دانوں کےقتل میں ملوث بعض دہشتگردوں کی آذربائیجان میں رفت و آمد، اسرائیل کے سفر میں ان کے لئے آسانی فراہم کرنے اور موساد کے ساتھ تعاون کے بعد تہران میں متعین جمہوریہ آذربائیجان کے سفیر" جوانشیر آخوند اف" کو گزشتہ ہفتے ایرانی وزارت خارجہ میں طلب کر کے حکومت ایران کے احتجاج سے آگاہ کیا گيا۔ایران کی وزارت خارجہ میں دولت مشترکہ اور قفقاز کے شعبے کے ڈائریکٹر جنرل نے باکو کے سفیر کو احتجاجی مراسلہ دیا اور حکومت باکو سے مطالبہ کیا کہ آذربائیجان میں ایران کے خلاف صیہونی حکومت کی خفیہ ایجنسی کی سرگرمیاں ختم کی جائيں۔ اس ملاقات کے دوران حکومت باکو سے وابستہ اداروں کے آذربائیجان میں موجود اسلامی جمہوریہ ایران کے اداروں کے نمائندوں کے ساتھ نامناسب رویے، ایران کے خلاف آذربائیجان کے ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈے اور اسی طرح ایرانی مال بردار ٹرکوں کو آستارا باکو شاہراہ پر روکنے پر سخت احتجاج کیا گیا اور اس طرح کے غیر دوستانہ اقدامات کو فوری روکنے پر زور دیا گیا۔ایسا نظر آتا ہے کہ آذربائیجانی حکام کے بعض دعوے اس دباؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے کہ جو تہران اور باکو کے تعلقات میں پیش آنے والی بعض منفی چیزوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جن میں آذربائیجان کی سرزمین پر دہشت گرد گروہوں منافقین اور پژاک کی موجودگی، ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کو قتل کرنے کے لیے صیہونی حکومت کی جانب سے آذربائیجان کی سرزمین کا استعمال اور جمہوریہ آذربائیجان میں ایرانو فوبیا جیسے اقدامات شامل ہیں۔ باکو حکومت جمہوریہ آذربائیجان میں بعض ایران مخالف سرگرمیوں کا جواز پیش کرنے کے لیے جھوٹے اور ثبوت کے بغیر دعوے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایران اور جمہوریہ آذربائیجان نے سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں کئي معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان میں سے ایک معاہدے کے مطابق دونوں ملک کسی تیسرے ملک کو ایک دوسرے کے خلاف کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ان معاہدوں کے باوجود باکو حکومت دوسرے ملکوں کی جاسوسی تنظیموں سے تعاون کر کے ایران پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے۔ ایران کے احتجاجی مراسلے پر آذربائیجان کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ باکو حکام دونوں ملکوں کے تعلقات میں آنے والی اس بڑی مشکل کو دور کرنا نہیں چاہتے ہیں۔

حکومت باکو جمہوری آذربائیجان میں ایران کے خلاف بعض سرگرمیوں کے بارے مین توجیہ کر نے کی کوشش کر رہی ہے تا کہ جھوٹے دعوے اور بے بنیاد دستاویز پیش کردے۔جب کہ ایران اور آذربائجان نے سیکورٹی اور دفاعی تعاون کے معاملے میں متعدد معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ان میں سےایک معاہدہ یہ تھا کہ تہران اور آذربائیجان آپسی تعاون میں کسی تیسرے ملک کی مداخلت کو برداشت نہیں کر یں گے۔ان معاہدوں کے باوجود باکو کی حکومت اجنبی ممالک کی جاسوسی تنظیموں کا تعاون کرکے ایران پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے اور ایران کے اعتراض پر باکو کا رد عمل اس بات کی عکاسی کرتاہے کہ آذربائجانی حکام اس بڑی مشکل کے دو طرفہ حل کے لئے ایران کے ساتھ نہیں ہے ۔.......

/169